7 اشعار

نہ تخت و تاج میں نے لشکر و سپاہ میں ہے

Na takht-o-taaj mein, na lashkar-o-sipah mein hai

نہ تخت و تاج میں نے لشکر و سپاہ میں ہے

«نہ تخت و تاج میں نے لشکر و سپاہ میں ہے» علامہ اقبال کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 52 سیکنڈ ہے۔

نہ تخت و تاج میں نے لشکر و سپاہ میں ہےجو بات مرد قلندر کی بارگاہ میں ہے

صنم کدہ ہے جہاں اور مرد حق ہے خلیلیہ نکتہ وہ ہے کہ پوشیدہ لا الہ میں ہے

وہی جہاں ہے ترا جس کو تو کرے پیدایہ سنگ و خشت نہیں جو تری نگاہ میں ہے

مہ و ستارہ سے آگے مقام ہے جس کاوہ مشت خاک ابھی آوارگان راہ میں ہے

خبر ملی ہے خدایان بحر و بر سے مجھےفرنگ رہ گزر سیل بے پناہ میں ہے

تلاش اس کی فضاؤں میں کر نصیب اپناجہان تازہ مری آہ صبح گاہ میں ہے

مرے کدو کو غنیمت سمجھ کہ بادۂ نابنہ مدرسے میں ہے باقی نہ خانقاہ میں ہے

— علامہ اقبال