8 اشعار

نہ تو زمیں کے لیے ہے نہ آسماں کے لیے

Na tu zameen ke liye hai na aasman ke liye

نہ تو زمیں کے لیے ہے نہ آسماں کے لیے

«نہ تو زمیں کے لیے ہے نہ آسماں کے لیے» علامہ اقبال کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 13 سیکنڈ ہے۔

نہ تو زمیں کے لیے ہے نہ آسماں کے لیےجہاں ہے تیرے لیے تو نہیں جہاں کے لیے

یہ عقل و دل ہیں شرر شعلۂ محبت کےوہ خار و خس کے لیے ہے یہ نیستاں کے لیے

مقام پرورش آہ و نالہ ہے یہ چمننہ سیر گل کے لیے ہے نہ آشیاں کے لیے

رہے گا راوی و نیل و فرات میں کب تکترا سفینہ کہ ہے بحر بیکراں کے لیے

نشان راہ دکھاتے تھے جو ستاروں کوترس گئے ہیں کسی مرد راہ داں کے لیے

نگہ بلند سخن دل نواز جاں پرسوزیہی ہے رخت سفر میر کارواں کے لیے

ذرا سی بات تھی اندیشۂ عجم نے اسےبڑھا دیا ہے فقط زیب داستاں کے لیے

مرے گلو میں ہے اک نغمہ جبرائیل آشوبسنبھال کر جسے رکھا ہے لا مکاں کے لیے

— علامہ اقبال