10 اشعار

نالہ ہے بلبل شوریدہ ترا خام ابھی

Nalah hai bulbul-e-shoreeda tera khaam abhi

نالہ ہے بلبل شوریدہ ترا خام ابھی

«نالہ ہے بلبل شوریدہ ترا خام ابھی» علامہ اقبال کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 21 سیکنڈ ہے۔

نالہ ہے بلبل شوریدہ ترا خام ابھیاپنے سینہ میں اسے اور ذرا تھام ابھی

پختہ ہوتی ہے اگر مصلحت اندیش ہو عقلعشق ہو مصلحت اندیش تو ہے خام ابھی

بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشقعقل ہے محو تماشائے لب بام ابھی

عشق فرمودۂ قاصد سے سبک گام عملعقل سمجھی ہی نہیں معنئ پیغام ابھی

شیوۂ عشق ہے آزادی و دہر آشوبیتو ہے زناریٔ بت خانۂ ایام ابھی

عذر پرہیز پہ کہتا ہے بگڑ کر ساقیہے ترے دل میں وہی کاوش انجام ابھی

سعئ پیہم ہے ترازوئے کم و کیف حیاتتیری میزاں ہے شمار سحر و شام ابھی

ابر نیساں یہ تنک بخشیٔ شبنم کب تکمیرے کہسار کے لالے ہیں تہی جام ابھی

بادہ گردان عجم وہ عربی میری شرابمرے ساغر سے جھجکتے ہیں مے آشام ابھی

خبر اقبالؔ کی لائی ہے گلستاں سے نسیمنو گرفتار پھڑکتا ہے تہ دام ابھی

— علامہ اقبال