7 اشعار

نگاہ فقر میں شان سکندری کیا ہے

Nigah-e-faqr mein shan-e-sikandari kya hai

نگاہ فقر میں شان سکندری کیا ہے

«نگاہ فقر میں شان سکندری کیا ہے» علامہ اقبال کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 7 سیکنڈ ہے۔

نگاہ فقر میں شان سکندری کیا ہےخراج کی جو گدا ہو وہ قیصری کیا ہے

بتوں سے تجھ کو امیدیں خدا سے نومیدیمجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے

فلک نے ان کو عطا کی ہے خواجگی کہ جنہیںخبر نہیں روش بندہ پروری کیا ہے

فقط نگاہ سے ہوتا ہے فیصلہ دل کانہ ہو نگاہ میں شوخی تو دلبری کیا ہے

اسی خطا سے عتاب ملوک ہے مجھ پرکہ جانتا ہوں مآل سکندری کیا ہے

کسے نہیں ہے تمنائے سروری لیکنخودی کی موت ہو جس میں وہ سروری کیا ہے

خوش آ گئی ہے جہاں کو قلندری میریوگرنہ شعر مرا کیا ہے شاعری کیا ہے

— علامہ اقبال