6 اشعار

پریشاں ہو کے میری خاک آخر دل نہ بن جائے

Pareshan ho ke meri khaak akhir dil na ban jaaye

پریشاں ہو کے میری خاک آخر دل نہ بن جائے

«پریشاں ہو کے میری خاک آخر دل نہ بن جائے» علامہ اقبال کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 52 سیکنڈ ہے۔

پریشاں ہو کے میری خاک آخر دل نہ بن جائےجو مشکل اب ہے یا رب پھر وہی مشکل نہ بن جائے

نہ کر دیں مجھ کو مجبور نوا فردوس میں حوریںمرا سوز دروں پھر گرمی محفل نہ بن جائے

کبھی چھوڑی ہوئی منزل بھی یاد آتی ہے راہی کوکھٹک سی ہے جو سینے میں غم منزل نہ بن جائے

بنایا عشق نے دریائے ناپیدا کراں مجھ کویہ میری خود نگہداری مرا ساحل نہ بن جائے

کہیں اس عالم بے رنگ و بو میں بھی طلب میریوہی افسانۂ دنبالۂ محمل نہ بن جائے

عروج آدم خاکی سے انجم سہمے جاتے ہیںکہ یہ ٹوٹا ہوا تارا مہ کامل نہ بن جائے

— علامہ اقبال