6 اشعار

سختیاں کرتا ہوں دل پر غیر سے غافل ہوں میں

Sakhtiyaan karta hoon dil par, ghair se ghafil hoon main

سختیاں کرتا ہوں دل پر غیر سے غافل ہوں میں

«سختیاں کرتا ہوں دل پر غیر سے غافل ہوں میں» علامہ اقبال کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 58 سیکنڈ ہے۔

سختیاں کرتا ہوں دل پر غیر سے غافل ہوں میںہائے کیا اچھی کہی ظالم ہوں میں جاہل ہوں میں

میں جبھی تک تھا کہ تیری جلوہ پیرائی نہ تھیجو نمود حق سے مٹ جاتا ہے وہ باطل ہوں میں

علم کے دریا سے نکلے غوطہ زن گوہر بدستوائے محرومی خذف چین لب ساحل ہوں میں

ہے مری ذلت ہی کچھ میری شرافت کی دلیلجس کی غفلت کو ملک روتے ہیں وہ غافل ہوں میں

بزم ہستی اپنی آرائش پہ تو نازاں نہ ہوتو تو اک تصویر ہے محفل کی اور محفل ہوں میں

ڈھونڈھتا پھرتا ہوں میں اقبالؔ اپنے آپ کوآپ ہی گویا مسافر آپ ہی منزل ہوں میں

— علامہ اقبال