25 اشعار

سما سکتا نہیں پہنائے فطرت میں مرا سودا

Sama sakta nahin pehna-e-fitrat mein mera sauda

سما سکتا نہیں پہنائے فطرت میں مرا سودا

«سما سکتا نہیں پہنائے فطرت میں مرا سودا» علامہ اقبال کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 3 منٹ 43 سیکنڈ ہے۔

سما سکتا نہیں پہنائے فطرت میں مرا سوداغلط تھا اے جنوں شاید ترا اندازۂ صحرا

خودی سے اس طلسم رنگ و بو کو توڑ سکتے ہیںیہی توحید تھی جس کو نہ تو سمجھا نہ میں سمجھا

نگہ پیدا کر اے غافل تجلی عین فطرت ہےکہ اپنی موج سے بیگانہ رہ سکتا نہیں دریا

رقابت علم و عرفاں میں غلط بینی ہے منبر کیکہ وہ حلاج کی سولی کو سمجھا ہے رقیب اپنا

خدا کے پاک بندوں کو حکومت میں غلامی میںزرہ کوئی اگر محفوظ رکھتی ہے تو استغنا

نہ کر تقلید اے جبریل میرے جذب و مستی کیتن آساں عرشیوں کو ذکر و تسبیح و طواف اولیٰ

بہت دیکھے ہیں میں نے مشرق و مغرب کے مے خانےیہاں ساقی نہیں پیدا وہاں بے ذوق ہے صہبا

نہ ایراں میں رہے باقی نہ توراں میں رہے باقیوہ بندے فقر تھا جن کا ہلاک قیصر و کسریٰ

یہی شیخ حرم ہے جو چرا کر بیچ کھاتا ہےگلیم بوذر و دلق اویس و چادر زہرا

حضور حق میں اسرافیل نے میری شکایت کییہ بندہ وقت سے پہلے قیامت کر نہ دے برپا

ندا آئی کہ آشوب قیامت سے یہ کیا کم ہے' گرفتہ چینیاں احرام و مکی خفتہ در بطحا

لبالب شیشۂ تہذیب حاضر ہے مے لا سےمگر ساقی کے ہاتھوں میں نہیں پیمانۂ الا

دبا رکھا ہے اس کو زخمہ ور کی تیز دستی نےبہت نیچے سروں میں ہے ابھی یورپ کا واویلا

اسی دریا سے اٹھتی ہے وہ موج تند جولاں بھینہنگوں کے نشیمن جس سے ہوتے ہیں تہ و بالا

غلامی کیا ہے ذوق حسن و زیبائی سے محرومیجسے زیبا کہیں آزاد بندے ہے وہی زیبا

بھروسا کر نہیں سکتے غلاموں کی بصیرت پرکہ دنیا میں فقط مردان حر کی آنکھ ہے بینا

وہی ہے صاحب امروز جس نے اپنی ہمت سےزمانے کے سمندر سے نکالا گوہر فردا

فرنگی شیشہ گر کے فن سے پتھر ہو گئے پانیمری اکسیر نے شیشے کو بخشی سختیٔ خارا

رہے ہیں اور ہیں فرعون میری گھات میں اب تکمگر کیا غم کہ میری آستیں میں ہے ید بیضا

وہ چنگاری خس و خاشاک سے کس طرح دب جائےجسے حق نے کیا ہو نیستاں کے واسطے پیدا

محبت خویشتن بینی محبت خویشتن داریمحبت آستان قیصر و کسریٰ سے بے پروا

عجب کیا گر مہ و پرویں مرے نخچیر ہو جائیںکہ بر فتراک صاحب دولتے بستم سر خود را

وہ دانائے سبل ختم الرسل مولائے کل جس نےغبار راہ کو بخشا فروغ وادیٔ سینا

نگاہ عشق و مستی میں وہی اول وہی آخروہی قرآں وہی فرقاں وہی یٰسیں وہی طہٰ

سنائیؔ کے ادب سے میں نے غواصی نہ کی ورنہابھی اس بحر میں باقی ہیں لاکھوں لولوئے لالا

— علامہ اقبال