9 اشعار

وہ حرف راز کہ مجھ کو سکھا گیا ہے جنوں

Woh harf-e-raaz ke mujh ko sikha gaya hai junoon

وہ حرف راز کہ مجھ کو سکھا گیا ہے جنوں

«وہ حرف راز کہ مجھ کو سکھا گیا ہے جنوں» علامہ اقبال کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 5 سیکنڈ ہے۔

وہ حرف راز کہ مجھ کو سکھا گیا ہے جنوںخدا مجھے نفس جبرئیل دے تو کہوں

ستارہ کیا مری تقدیر کی خبر دے گاوہ خود فراخی افلاک میں ہے خوار و زبوں

حیات کیا ہے خیال و نظر کی مجذوبیخودی کی موت ہے اندیشہ ہائے گوناں گوں

عجب مزہ ہے مجھے لذت خودی دے کروہ چاہتے ہیں کہ میں اپنے آپ میں نہ رہوں

ضمیر پاک و نگاہ بلند و مستئ شوقنہ مال و دولت قاروں نہ فکر افلاطوں

سبق ملا ہے یہ معراج مصطفی سے مجھےکہ عالم بشریت کی زد میں ہے گردوں

یہ کائنات ابھی ناتمام ہے شایدکہ آ رہی ہے دمادم صدائے کن فیکوں

علاج آتش رومیؔ کے سوز میں ہے تراتری خرد پہ ہے غالب فرنگیوں کا فسوں

اسی کے فیض سے میری نگاہ ہے روشناسی کے فیض سے میرے سبو میں ہے جیحوں

— علامہ اقبال