16 اشعار

یا رب یہ جہان گزراں خوب ہے لیکن

Ya Rab yeh jahan-e-guzran khoob hai lekin

یا رب یہ جہان گزراں خوب ہے لیکن

«یا رب یہ جہان گزراں خوب ہے لیکن» علامہ اقبال کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

یا رب یہ جہان گزراں خوب ہے لیکنکیوں خوار ہیں مردان صفا کیش و ہنر مند

گو اس کی خدائی میں مہاجن کا بھی ہے ہاتھدنیا تو سمجھتی ہے فرنگی کو خداوند

تو برگ گیا ہے نہ وہی اہل خرد رااو کشت گل و لالہ بہ بخشد بہ خرے چند

حاضر ہیں کلیسا میں کباب و مئے گلگوںمسجد میں دھرا کیا ہے بجز موعظہ و پند

احکام ترے حق ہیں مگر اپنے مفسرتاویل سے قرآں کو بنا سکتے ہیں پازند

فردوس جو تیرا ہے کسی نے نہیں دیکھاافرنگ کا ہر قریہ ہے فردوس کی مانند

مدت سے ہے آوارۂ افلاک مرا فکرکر دے اسے اب چاند کے غاروں میں نظر بند

فطرت نے مجھے بخشے ہیں جوہر ملکوتیخاکی ہوں مگر خاک سے رکھتا نہیں پیوند

درویش خدا مست نہ شرقی ہے، نہ غربیگھر میرا نہ دلی نہ صفاہاں نہ سمرقند

کہتا ہوں وہی بات سمجھتا ہوں جسے حقنے آبلۂ مسجد ہوں نہ تہذیب کا فرزند

اپنے بھی خفا مجھ سے ہیں بیگانے بھی نا خوشمیں زہر ہلاہل کو کبھی کہہ نہ سکا قند

مشکل ہے اک بندۂ حق بین و حق اندیشخاشاک کے تودے کو کہے کوہ دماوند

ہوں آتش نمرود کے شعلوں میں بھی خاموشمیں بندۂ مومن ہوں نہیں دانۂ اسپند

پر سوز نظر باز و نکوبین و کم آرزوآزاد و گرفتار و تہی کیسہ و خورسند

ہر حال میں میرا دل بے قید ہے خرمکیا چھینے گا غنچے سے کوئی ذوق شکرخند

چپ رہ نہ سکا حضرت یزداں میں بھی اقبالؔکرتا کوئی اس بندۂ گستاخ کا منہ بند

— علامہ اقبال