13 اشعار

دھوم تھی اپنی پارسائی کی

Dhoom thi apni paarsayi ki

دھوم تھی اپنی پارسائی کی

«دھوم تھی اپنی پارسائی کی» الطاف حسین حالی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 6 سیکنڈ ہے۔

دھوم تھی اپنی پارسائی کیکی بھی اور کس سے آشنائی کی

کیوں بڑھاتے ہو اختلاط بہتہم کو طاقت نہیں جدائی کی

منہ کہاں تک چھپاؤ گے ہم سےتم کو عادت ہے خود نمائی کی

لاگ میں ہیں لگاؤ کی باتیںصلح میں چھیڑ ہے لڑائی کی

ملتے غیروں سے ہو ملو لیکنہم سے باتیں کرو صفائی کی

دل رہا پائے بند الفت دامتھی عبث آرزو رہائی کی

دل بھی پہلو میں ہو تو یاں کس سےرکھئے امید دل ربائی کی

شہر و دریا سے باغ و صحرا سےبو نہیں آتی آشنائی کی

نہ ملا کوئی غارت ایماںرہ گئی شرم پارسائی کی

بخت ہم داستانی شیداتو نے آخر کو نارسائی کی

صحبت گاہ گاہی رشکیتو نے بھی ہم سے بے وفائی کی

موت کی طرح جس سے ڈرتے تھےساعت آ پہنچی اس جدائی کی

زندہ پھرنے کی ہے ہوس حالیؔانتہا ہے یہ بے حیائی کی

— الطاف حسین حالی