7 اشعار

غم فرقت ہی میں مرنا ہو تو دشوار نہیں

Gham-e-furqat hi mein marna ho to dushwar nahin

غم فرقت ہی میں مرنا ہو تو دشوار نہیں

«غم فرقت ہی میں مرنا ہو تو دشوار نہیں» الطاف حسین حالی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

غم فرقت ہی میں مرنا ہو تو دشوار نہیںشادی وصل بھی عاشق کو سزاوار نہیں

خوبروئی کے لیے زشتیٔ خو بھی ہے ضرورسچ تو یہ ہے کہ کوئی تجھ سا طرح دار نہیں

قول دینے میں تامل نہ قسم سے انکارہم کو سچا نظر آتا کوئی اقرار نہیں

کل خرابات میں اک گوشہ سے آتی تھی صدادل میں سب کچھ ہے مگر رخصت گفتار نہیں

حق ہوا کس سے ادا اس کی وفاداری کاجس کے نزدیک جفا باعث آزار نہیں

دیکھتے ہیں کہ پہنچتی ہے وہاں کون سی راہکعبہ و دیر سے کچھ ہم کو سروکار نہیں

ہوں گے قائل وہ ابھی مطلع ثانی سن کرجو تجلی میں یہ کہتے ہیں کہ تکرار نہیں

— الطاف حسین حالی