9 اشعار

گھر ہے وحشت خیز اور بستی اجاڑ

Ghar hai wahshat-khez aur basti ujaad

گھر ہے وحشت خیز اور بستی اجاڑ

«گھر ہے وحشت خیز اور بستی اجاڑ» الطاف حسین حالی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

گھر ہے وحشت خیز اور بستی اجاڑہو گئی ایک اک گھڑی تجھ بن پہاڑ

آج تک قصر امل ہے ناتمامبندھ چکی ہے بارہا کھل کھل کے پاڑ

ہے پہنچنا اپنا چوٹی تک محالاے طلب نکلا بہت اونچا پہاڑ

کھیلنا آتا ہے ہم کو بھی شکارپر نہیں زاہد کوئی ٹٹی کی آڑ

دل نہیں روشن تو ہیں کس کام کےسو شبستاں میں اگر روشن ہیں جھاڑ

عید اور نوروز ہے سب دل کے ساتھدل نہیں حاضر تو دنیا ہے اجاڑ

کھیت رستے پر ہے اور رہ رو سوارکشت ہے سرسبز اور نیچی ہے باڑ

بات واعظ کی کوئی پکڑی گئیان دنوں کم تر ہے کچھ ہم پر لتاڑ

تم نے حالیؔ کھول کر ناحق زباںکر لیا ساری خدائی سے بگاڑ

— الطاف حسین حالی