9 اشعار

ہے یہ تکیہ تری عطاؤں پر

hai ye takiya tirī atāoñ par

ہے یہ تکیہ تری عطاؤں پر

«ہے یہ تکیہ تری عطاؤں پر» الطاف حسین حالی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 48 سیکنڈ ہے۔

ہے یہ تکیہ تری عطاؤں پروہی اصرار ہے خطاؤں پر

رہیں نا آشنا زمانہ سےحق ہے تیرا یہ آشناؤں پر

رہروو با خبر رہو کہ گماںرہزنی کا ہے رہنماؤں پر

ہے وہ دیر آشنا تو عیب ہے کیامرتے ہیں ہم انہیں اداؤں پر

اس کے کوچہ میں ہیں وہ بے پر و بالاڑتے پھرتے ہیں جو ہواؤں پر

شہسواروں پہ بند ہے جو راہوقف ہے یاں برہنہ پاؤں پر

نہیں منعم کو اس کی بوند نصیبمینہ برستا ہے جو گداؤں پر

نہیں محدود بخششیں تیریزاہدوں پر نہ پارساؤں پر

حق سے درخواست عفو کی حالیؔکیجے کس منہ سے ان خطاؤں پر

— الطاف حسین حالی