9 اشعار

عشق کو ترک جنوں سے کیا غرض

ishq ko tark-e-junūñ se kyā ġharaz

عشق کو ترک جنوں سے کیا غرض

«عشق کو ترک جنوں سے کیا غرض» الطاف حسین حالی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 15 سیکنڈ ہے۔

عشق کو ترک جنوں سے کیا غرضچرخ گرداں کو سکوں سے کیا غرض

دل میں ہے اے خضر گر صدق طلبراہرو کو رہنموں سے کیا غرض

حاجیو ہے ہم کو گھر والے سے کامگھر کے محراب و ستوں سے کیا غرض

گنگنا کر آپ رو پڑتے ہیں جوان کو چنگ و ارغنوں سے کیا غرض

نیک کہنا نیک جس کو دیکھناہم کو تفتیش دروں سے کیا غرض

دوست ہیں جب زخم دل سے بے خبران کو اپنے اشک خوں سے کیا غرض

عشق سے ہے مجتنب زاہد عبثشیر کو صید زبوں سے کیا غرض

کر چکا جب شیخ تسخیر قلوباب اسے دنیائے دوں سے کیا غرض

آئے ہو حالیؔ پئے تسلیم یاںآپ کو چون و چگوں سے کیا غرض

— الطاف حسین حالی