6 اشعار

آنکھ سے آنسو تو دل سے ڈر اٹھا کر لے گیا

Aankh se aansoo toh dil se dar utha kar le gaya

آنکھ سے آنسو تو دل سے ڈر اٹھا کر لے گیاایک منظر سارے پس منظر اٹھا کر لے گیا

کس نے پہچانا یہاں ان کور بینوں میں مجھےکون میرا لاشۂ بے سر اٹھا کر لے گیا

مل گیا مجھ میں جسے جو چاہیئے تھا اور پھرکوئی ہیرے اور کوئی پتھر اٹھا کر لے گیا

میری آنکھیں شہر کے کوزہ گروں میں بٹ گئیںمیرا سینہ ایک آہن گر اٹھا کر لے گیا

جس سے اک پتھر نہ اٹھ پاتا تھا اب وہ ناتواںانگلیوں پر عشق کا خیبر اٹھا کر لے گیا

سارے منظر ساتھ اس کے عمر بھر چلتے رہےاپنے کاندھوں پر وہ اپنا گھر اٹھا کر لے گیا

— امیر امام