6 اشعار

دہرا رہیں ہیں پھر جسے دہرا چکے ہیں ہم

Dohra rahi hain phir jise dohra chuke hain hum

دہرا رہیں ہیں پھر جسے دہرا چکے ہیں ہمتم سے نہ بولنے کی قسم کھا چکے ہیں ہم

جینے کی خواہشیں ہوں کہ مرنے کی آرزوسب زندگی کی قبر میں دفنا چکے ہیں ہم

جانے ہے کیا کہ جائیں کہیں بھی جہان میںلگتا ہے ہر جگہ کہ یہاں آ چکے ہیں ہم

شکوے فراق کے ہوں کہ راحت وصال کیکس کس طرح نہ دل تجھے بہلا چکے ہیں ہم

اس شہر دل میں ایک زمانہ کے بعد ابآئے ہو تم تو دور بہت جا چکے ہیں ہم

ہنس کر یہ اعتراف کریں اور وداع لیںتنگ ایک دوسرے سے بہت آ چکے ہیں ہم

— امیر امام