6 اشعار

وہی امید وہی انتظار لے آئی

Wohi umeed wohi intizaar le aayi

وہی امید وہی انتظار لے آئینئی ہوا بھی پرانا غبار لے آئی

کسی سے لے لئے منظر کسی سے بینائیکسی سے زندگی آنکھیں ادھار لے آئی

چلو یہاں سے کہ صحرا کی خاک بھی آخرتمام شہر کے نقش و نگار لے آئی

تری تلاش میں خود کو وہاں تلک لایاجہاں تلک بھی تری رہ گزار لے آئی

شب گزشتہ مجھے اک خفیف سی آہٹکسی خیال کی ندی کے پار لے آئی

جہاں کی دھوپ سے کچھ اور نہ ہو سکا لیکنابھی سے بالوں میں چاندی کے تار لے آئی

— امیر امام