4 اشعار

آنکھوں کے آسماں سے اتر کر زمیں پہ تھے

Aankhon ke aasman se utar kar zameen pe the

آنکھوں کے آسماں سے اتر کر زمیں پہ تھےکل شب ستارے سارے ہماری جبیں پہ تھے

تم سے تمام عمر کی دوری کے اس طرفچپکے کھڑے ہوئے تھے پہ ہم بھی وہیں پہ تھے

قریہ بہ قریہ ہم کو تری بو لیے پھریتھے صبح کو کہیں پہ تو شب کو کہیں پہ تھے

جو تھا یہاں وہ خواب کے دریا کے پار تھااور ہم سوار کشتیٔ قلب حزیں پہ تھے

— امیر امام