7 اشعار

حقیقتوں کی طرف داستاں سے نکلیں گے

Haqeeqaton ki taraf dastaan se niklenge

حقیقتوں کی طرف داستاں سے نکلیں گےجو ایک روز ہم اس خاکداں سے نکلیں گے

نہ تارتار گریباں نہ خاک اڑاتے ہوئےکسی کے کوچۂ نامہرباں سے نکلیں گے

جہاں کوئی نہیں پہنچا وہاں پہنچنا ہےجہاں کوئی نہیں نکلا وہاں سے نکلیں گے

کسی کے زخم کسی کا بدن اٹھائے گاکسی کے تیر کسی کی کماں سے نکلیں گے

زمیں میں جانا ہے یوں ہیں زمین کی خاطرہم آسماں کے لئے آسماں سے نکلیں گے

نہ پھر گھڑی کی یہ ٹک ٹک نہ گرتی دیواریںکبھی تو قید زمان و مکاں سے نکلیں گے

چھپے ہیں یوں کہ تلاشیں ہمیں نئی نسلیںخموش یوں ہیں کہ ان کی زباں سے نکلیں گے

— امیر امام