6 اشعار

اب اس جہان برہنہ کا استعارہ ہوا

Ab is jahan-e-barhana ka iste'aara hua

جو اب جہان برہنہ کا استعارہ ہوامیں زندگی ترا اک پیرہن اتارا ہوا

سیاہ خون ٹپکتا ہے لمحے لمحے سےنہ جانے رات پہ شب خوں ہے کس نے مارا ہوا

جکڑ کے سانسوں میں تشہیر ہو رہی ہے مریمیں ایک قید سپاہی ہوں جنگ ہارا ہوا

پھر اس کے بعد وہ آنسو اتر گیا دل میںذرا سی دیر کو آنکھوں میں اک شرارہ ہوا

خدا کا شکر مری تشنگی پلٹ آئیچلی گئی تھی سمندر کا جب اشارہ ہوا

امیر امام مبارک ہو فتح عشق تمہیںیہ درد مال غنیمت ہے سب تمہارا ہوا

— امیر امام