6 اشعار

کوئی خوشی نہ کوئی رنج مستقل ہوگا

Koi khushi na koi ranj mustaqil hoga

کوئی خوشی نہ کوئی رنج مستقل ہوگافنا کے رنگ سے ہر رنگ متصل ہوگا

عجب ہے عشق عجب تر ہیں خواہشیں اس کیکبھی کبھی تو بچھڑنے تلک کو دل ہوگا

بدن میں ہو تو گلہ کیا تماش بینی کایہاں تو روز تماشا و آب و گل ہوگا

ابھی تو اور بھی چہرے تمہیں پکاریں گےابھی وہ اور بھی چہروں میں منتقل ہوگا

زیاں مزید ہے اسباب ڈھونڈھتے رہناہوا ہے جو وہ نہ ہونے پہ مشتمل ہوگا

تمام رات بھٹکتا پھرا ہے سڑکوں پرہوئی ہے صبح ابھی شہر مضمحل ہوگا

— امیر امام