6 اشعار

زمیں کے سارے مناظر سے کٹ کے سوتا ہوں

Zameen ke saare manazir se kat ke sota hoon

زمیں کے سارے مناظر سے کٹ کے سوتا ہوںمیں آسماں کے سفر سے پلٹ کے سوتا ہوں

میں جمع کرتا ہوں شب کے سیاہی قطروں کوبہ وقت صبح پھر ان کو پلٹ کے سوتا ہوں

تلاش دھوپ میں کرتا ہوں سارا دن خود کوتمام رات ستاروں میں بٹ کے سوتا ہوں

کہاں سکوں کہ شب و روز گھومنا اس کاذرا زمین کے محور سے ہٹ کے سوتا ہوں

ترے بدن کی خلاؤں میں آنکھ کھلتی ہےہوا کے جسم سے جب جب لپٹ کے سوتا ہوں

میں جاگ جاگ کے راتیں گزارنے والااک ایسی رات بھی آتی ہے ڈٹ کے سوتا ہوں

— امیر امام