6 اشعار

اگر تم چاہتے ہو اب کہ تم سے بھی کنارہ کر لیا جائے

Agar tum chahte ho ab ke tum se bhi kinara kar liya jaye

اگر تم چاہتے ہو اب کہ تم سے بھی کنارہ کر لیا جائےگوارہ ہے مگر خود ہی کہو کیسے گوارہ کر لیا جائے

ملائم چاندنی کتنی بھلی لگتی ہے ان بے خواب آنکھوں کویہ مانا داغ ہے پر چاند تیرا استعارہ کر لیا جائے

ذرا ٹھہرو کسے معلوم چوتھی سمت ہوں جنگل کی وہ آنکھیںادھر جانا ہے پر جانے سے پہلے استخارہ کر لیا جائے

لگا کر زخم میرے کہہ رہا ہے وہ بتاؤ کس کی باری ہےمزہ آ جائے جو پھر اپنی ہی جانب اشارہ کر لیا جائے

سنا ہے تو اس آنسو کی طرح نازاں بہت وسعت پہ اپنی ہےبتا اے آسماں تجھ کو بھی آنکھوں میں شرارہ کر لیا جائے

جہاں اب خاک اڑتی ہے کبھی دریائے مستقبل تھا وہ لوگوچلو اک بار پھر صحرائے ماضی کا نظارہ کر لیا جائے

— امیر امام