6 اشعار

کمان توڑ دی اپنی زرہ اتار چکا

Kamaan tod di apni zirah utaar chuka

کمان توڑ دی اپنی زرہ اتار چکاخوشی مناؤ مرے دشمنو میں ہار چکا

اداس بیٹھی ہیں صحرا نوردیاں میریمیں اپنے آپ کو ہر دشت میں پکار چکا

میں قرض دار ہوں لوگو مجھے ذلیل کرونہ قرض یار چکا اور نہ قرض دار چکا

بچا رکھا تھا جو اک تیر اس جہاں کے لئےوہ ایک تیر میں سینے میں اپنے مار چکا

ہیں اور کام مجھے زندگی اجازت دےمیں تیری زلف پریشاں بہت سنوار چکا

کوئی حساب تھا تا عمر چک نہیں پایاوہی حساب جو ہر روز بار بار چکا

— امیر امام