7 اشعار

کسی بھی شخص سے شکوہ نہ اب گلہ رکھو

Kisī bhī shakhs se shikwa na ab gila rakho

کسی بھی شخص سے شکوہ نہ اب گلہ رکھوعجیب دن ہیں لبوں پر فقط دعا رکھو

یہ وقت پہلے بھی آ کر گزر گیا کئی بارگزرتا جائے گا یہ وقت حوصلہ رکھو

جو آج آتے ہیں آنسو تو کوئی بات نہیںلہو بھی آئے گا آنکھوں کا در کھلا رکھو

یہ چھپ نہ جائیں پھر اک بار آستینوں میںہر ایک خنجر قاتل پہ اک گلا رکھو

تمہارے قتل پہ ماتم بھی اب نہیں ہو گاتم اب یہ آخری امید بھی اٹھا رکھو

تبھی تو کہتے تھے تعداد کچھ نہیں ہوتیتبھی تو کہتے تھے ذہنوں میں کربلا رکھو

ہوا کے سامنے رکھی ہوا تو کیا حاصلنئے چراغ جلاؤ نئی ضیا رکھو

— امیر امام