5 اشعار

اور پھر کچھ بھی بجز دیدۂ حیراں نہ رہا

Aur phir kuch bhi bajuz dida-e-hairaan na raha

اور پھر کچھ بھی بجز دیدۂ حیراں نہ رہاحسن کافر نہ رہا عشق مسلماں نہ رہا

جس طرف دیکھیے آسان ہی آسان ہے سبزندگی کرنے کو اب کوئی بھی ساماں نہ رہا

شب بے خواب یہی نذر تبسم ہو قبولاب کوئی اشک تری شان کے شایاں نہ رہا

لوٹ آنا پڑا صحراؤں سے بستی کی طرفکیا کہیں ان سے کہ کیوں چاک گریباں نہ رہا

چاند بولا نہ رہا خواب کوئی آنکھوں میںمیں نے آنکھوں کو جھکا کر یہ کہا ہاں نہ رہا

— امیر امام