6 اشعار

مستقبلوں کی گزرے زمانوں کی زد پہ ہوں

Mustaqbilon ki guzre zamanon ki zad pe hoon

مستقبلوں کی گزرے زمانوں کی زد پہ ہوںمیں اس جہاں میں کتنے جہانوں کی زد پہ ہوں

ہوں ایسا عکس جس کے کئی اور عکس ہیںمیں بے شمار آئنہ خانوں کی زد پہ ہوں

منظر ہوئے تمام تو سنتا ہوں آہٹیںآنکھوں کی زد سے نکلا تو کانوں کی زد پہ ہوں

واقع کہیں ہوں ہونے نہ ہونے کے درمیاںمیں اپنے بے نشان نشانوں کی زد پہ ہوں

مجھ کو مرے یقین پہ کتنا یقین ہےاتنا یقین ہے کہ گمانوں کی زد پہ ہوں

ترکش بھی میرا تیر بھی میرے ہدف بھی میںاپنے خلاف اپنی کمانوں کی زد پہ ہوں

— امیر امام