6 اشعار

جو جگنوؤں کی چمک شرمسار کرتی رہی

Jo jugnuon ki chamak sharmsaar karti rahi

جو جگنوؤں کی چمک شرمسار کرتی رہیہوا چراغوں کا اس شب شکار کرتی رہی

تھا ریگزار خموشی کا دل سے ہونٹھوں تکتو وہ سدا اسی صحرا کو پار کرتی رہی

سبھی رموز بہ‌‌ تفصیل موت نے کھولےیہ زندگی تو سدا اختصار کرتی رہی

ہیں کتنے اشک مرے اور کتنے تارے ہیںبہ وقت صبح شب غم شمار کرتی رہی

کبھی جو ہوگی نہ پوری اسی امید کی لوشب سیاہ کی فوجوں پہ وار کرتی رہی

خزاں کے بعد وہ اتری تھی میرے آنگن میںتو انتظار خزاں کا بہار کرتی رہی

— امیر امام