6 اشعار

اے سائبان گیسوئے خم دار الوداع

Ay saiban-e-gesoo-e-kham-daar alvidaa

اے سائبان گیسوئے خم دار الوداعپھر ہم ہیں اور سایۂ دیوار الوداع

اس خامشیٔ قلب کی تخلیق کن‌ فکاںاے کائنات کاکل و رخسار الوداع

کرنی ہیں پھر تلاش زلیخا نگاہیاںیوسف کو پھر ہے مصر کا بازار الوداع

بھٹکے گا دل کے دشت میں یادوں کا قافلہاس قافلے کی قافلہ سالار الوداع

کچھ اور ہو رہی ہیں معطر خموشیاںخوشبو بہ دوش نرمیٔ گفتار الوداع

کھلتی ہے آج تجھ سے مراسم کی ریسماںآزاد ہو رہا ہے گرفتار الوداع

— امیر امام