6 اشعار

کل رات جو شل رہی ہیں آنکھیں

Kal raat jo shul rahi hain aankhen

کل رات جو شل رہی ہیں آنکھیںیوں صبح سے جل رہی ہیں آنکھیں

منظر سے نکل رہے ہیں منظرآنکھوں سے نکل رہی ہیں آنکھیں

اشکوں کا لہو کہاں سے لاؤںپیاسی ہیں مچل رہی ہیں آنکھیں

خوابوں سے لڑائی ہو گئی ہےخاموش ٹہل رہی ہیں آنکھیں

بدلیں نہ ذرا بھی خود وہ لیکنچہرہ کو بدل رہی ہیں آنکھیں

جب ہوں گی طلوع دیکھ لیں گےفی الحال تو ڈھل رہی ہیں آنکھیں

— امیر امام