6 اشعار

بادل جو ایک یاد کا چھایا خوشی ہوئی

Badal jo ek yaad ka chhāya khushi hui

بادل جو ایک یاد کا چھایا خوشی ہوئیبارش میں اس کی خوب نہایا خوشی ہوئی

ہنسنا پڑا وہاں بھی ہے اس بات کا ملالمدت کے بعد دل جو بھر آیا خوشی ہوئی

درپیش معرکہ تھا خموشی کی فوج سےآنکھوں نے جم کے شور مچایا خوشی ہوئی

اک اور کتاب ختم کی پھر اس کو پھاڑ کرکاغذ کا اک جہاز بنایا خوشی ہوئی

تم سا اک اور شخص بچھڑنے کے بعد پھرتم سا اک اور شخص جو پایا خوشی ہوئی

اپنا یہ شعر بھول چکا تھا کبھی کا میںتم نے جو آج یاد دلایا خوشی ہوئی

— امیر امام