6 اشعار

میں بڑھ رہا ہوں مری عمر گھٹتی جاتی ہے

Main baṛh rahā hoon miri umar ghaṭti jaati hai

میں بڑھ رہا ہوں مری عمر گھٹتی جاتی ہےیہ نہر اپنے کناروں سے کٹتی جاتی ہے

فلک پہ چاند رواں ہے عقاب کی صورتشب فراق پروں میں سمٹتی جاتی ہے

نہ جانے کس لئے تصویر میرے سایہ کیبڑھوں جو ملنے تو پیچھے کو ہٹتی جاتی ہے

تجھے خبر نہیں جاگیر آسماں تیریتمام چاند ستاروں میں بٹتی جاتی ہے

غم فراق بھی کچھ دن کی لطف اندوزیپھر اس کے بعد طبیعت اچٹتی جاتی ہے

اگالدان ہے تاریخ جس کو کاغذ پرہر ایک دور کی قوت الٹتی جاتی ہے

— امیر امام