7 اشعار

بہت مخمور ہوتا جا رہا ہوں

Bahut makhmoor hota jaa raha hoon

بہت مخمور ہوتا جا رہا ہوںمیں اب بھرپور ہوتا جا رہا ہوں

میں چکنا چور ہو پایا نہ اب تکمیں چکنا چور ہوتا جا رہا ہوں

کہا اک زخم نے یہ مسکرا کرمیں اب ناسور ہوتا جا رہا ہوں

اٹھا دو آج پھر محفل سے اپنیبہت مغرور ہوتا جا رہا ہوں

قریب آیا ہوں اتنا عرض کرنےمیں تم سے دور ہوتا جا رہا ہوں

مری مٹی کو شکوہ ہے یہ مجھ سےسراپا نور ہوتا جا رہا ہوں

مرے خوابوں پہ گھوڑے دوڑتے ہیںشب عاشور ہوتا جا رہا ہوں

— امیر امام