6 اشعار

ہے خسارہ جو خسارے کو خسارہ جانے

Hai khasaara jo khasaare ko khasaara jaane

ہے خسارہ جو خسارے کو خسارہ جانےہم ترے ہجر کے دریا کو کنارہ جانے

اٹھ کے دیکھا تو خموشی کے سوا کوئی نہ تھارات بھر کس نے مرا نام پکارا جانے

کوئی ایسا ہو بتاؤں نہ کوئی بات جسےرہوں خاموش مگر حال وہ سارا جانے

خواب کیا چیز ہے اور رات کسے کہتے ہیںنیند جانے یا کوئی نیند کا مارا جانے

زلزلہ آ کے گزر جاتے ہیں جن شہروں سےکس طرح بستے ہیں وہ شہر دوبارہ جانے

جسے دیکھو وہی حق مانگ رہا ہے اپناکوئی تو ہو جو یہاں ہم کو ہمارا جانے

— امیر امام