6 اشعار

مدھم ہوئی تو اور نکھرتی چلی گئی

Madhham hui to aur nikharti chali gai

مدھم ہوئی تو اور نکھرتی چلی گئیزندہ ہے ایک یاد جو مرتی چلی گئی

تھی زندگی کی مثل شب ہجر دوستواور زندگی کی مثل گزرتی چلی گئی

ہم سے یہاں تو کچھ بھی سمیٹا نہ جا سکاہم سے ہر ایک چیز بکھرتی چلی گئی

آئے تھے چند زخم گزرگاہ وقت پرگزری ہوائے وقت تو بھرتی چلی گئی

اک اشک قہقہوں سے گزرتا چلا گیااک چیخ خامشی میں اترتی چلی گئی

ہر رنگ ایک رنگ سے ہم رنگ ہو گیاتصویر زندگی کی ابھرتی چلی گئی

— امیر امام