6 اشعار

بت جانے کسی کو نہ خدا مانے کسی کو

But jaane kisi ko na Khuda maane kisi ko

بت جانے کسی کو نہ خدا مانے کسی کودیوانہ ترا کب بھلا گردانے کسی کو

وہ رات ہی اس جسم پہ آتی تھی برابروہ رات بھی وہ لے گیا پہنانے کسی کو

خوش شکل ملا تجھ سا تو پھر بات الگ تھیورنہ نہ سنائے ترے افسانے کسی کو

اس پیاس کو اب پیاس ہی سیراب کرے گیصحرا کی طرف لے گئے میخانے کسی کو

گر بھیڑ ہے تو بھیڑ کے آداب نبھائےاس بھیڑ میں اب کوئی نہ پہچانے کسی کو

چھوڑ آؤ ادھر رونق بازار کی خواہشیوں آتے نہیں راس یہ ویرانے کسی کو

— امیر امام