7 اشعار

میری باتوں پہ خموشی کا گماں ہونا تھا

Meri baaton pe khamoshi ka gumaan hona tha

میری باتوں پہ خموشی کا گماں ہونا تھاکہاں الفاظ مجھے جن سے بیاں ہونا تھا

جلدبازی نے یہ ترتیب الٹ دی ورنہاب جو صحرا ہے اسے نہر رواں ہونا تھا

خیر اچھا ہوا بس ترک مراسم ٹھہراورنہ یہ عشق بھی احساس زیاں ہونا تھا

ساتھ تم تھے تو بہت آئیں بہاریں مجھ پراور بہاروں کو بہر حال خزاں ہونا تھا

جب ان آنکھوں نے دکھائے تھے تماشے مجھ کوپھر تماشوں کو بھلا اور کہاں ہونا تھا

تجربہ میرا بھی کچھ اور برس بڑھ جاتاتمہیں کچھ اور برس رک کے جواں ہونا تھا

یہ جہاں جیسا ہے بہتر ہے مگر جانے کیوںایسا لگتا ہے اسے اور جہاں ہونا تھا

— امیر امام