6 اشعار

چند روز اور بدن تو بھی ٹھکانہ ہے مجھے

Chand roz aur badan tu bhi thikana hai mujhe

چند روز اور بدن تو بھی ٹھکانہ ہے مجھےراستہ چھوڑ کہ جلدی میں ہوں جانا ہے مجھے

موت ہے دل کے دھڑکنے کے ٹھہرنے کی دلیلزندگی دل کے دھڑکنے کا بہانہ ہے مجھے

میں اکیلا ہوں کہاں ہو مری آنکھو آؤآج اک خواب کے لاشہ کو اٹھانا ہے مجھے

پاس بس ایک کہانی ہے سنانے کے لئےعمر بھر ایک کہانی کو سنانا ہے مجھے

اے خموشی تری دیوار کا کیا بگڑے گاجانتا ہوں یہ مگر شور مچانا ہے مجھے

دیکھتا رہتا ہوں چہروں میں چھپے چہروں کواپنی تنہائی کوئی آئنہ خانہ ہے مجھے

— امیر امام