7 اشعار

سچ ہے خاموشی وجہ تنہائی ہے میری

Sach hai khamoshi wajah-e-tanhai hai meri

سچ ہے خاموشی وجہ تنہائی ہے میریاس کو کیسے چھوڑ دوں یہ ماں جائی ہے میری

اتنے بل مت ڈالو دیکھو دیکھ نہ لے کوئیتم نے جبیں پر جو تصویر بنائی ہے میری

گھر سے باہر آنکھ پہ پٹی باندھ کے نکلوں گامیری دشمن آنکھوں کی بینائی ہے میری

دانائی کی آخری منزل پاگل ہو جاناپاگل ہو جانا یارو دانائی ہے میری

تیرا خیال کہاں تھا وہ تو ایک بگولہ تھااس نے شہروں شہروں خاک اڑائی ہے میری

کچھ آبادی سوتیلا برتاؤ کرتی ہےاور طبیعت بھی تھوڑی صحرائی ہے میری

مجھ کو تنہائی کے کتنے راگ سناتی ہےسگریٹ کب ہے جلتی ہوئی شہنائی ہے میری

— امیر امام