7 اشعار

دھار کیسی ہے یہ تلوار سے کٹ کر دیکھا

Dhaar kaisi hai yeh talwar se kaṭ kar dekha

دھار کیسی ہے یہ تلوار سے کٹ کر دیکھامرحبا چشم کہ اس خواب کو ڈٹ کر دیکھا

میں نہ کہتا تھا کہ رہ جائے گی مبہم ہو کرخامشی نے جو صداؤں سے لپٹ کر دیکھا

یوں لگا جیسے کہ پھر میں نے صدا دی تم کویوں لگا جیسے کہ پھر تم نے پلٹ کر دیکھا

ہوا معلوم وہاں ختم زمیں ہوتی تھیتیرے در سے جو ذرا پیچھے کو ہٹ کر دیکھا

اپنی وسعت کا اسے علم ہوا یوں یارواس نے اک شب مری بانہوں میں سمٹ کر دیکھا

فرق آیا نہ کوئی بات عجب ہے لوگومیں نے دنیا کو کئی بار الٹ کر دیکھا

وہ نہیں آیا مگر اس کو بلانے کے لئےبجھ کے آنکھوں نے تو نیندوں نے اچٹ کر دیکھا

— امیر امام