6 اشعار

چاند سورج سے پرے اور کہیں چاہتے ہیں

Chand Sooraj se pare aur kaheen chahte hain

چاند سورج سے پرے اور کہیں چاہتے ہیںآسماں جس پہ نہ ہو ایسی زمیں چاہتے ہیں

جس قدر دور ہے کچھ اور زیادہ اس سےاب سمجھ لو کہ اسے کتنا قریں چاہتے ہیں

اک تصور ہے کہ تجھ سے بھی مشابہ ہے بہتہم اسے چاہتے ہیں تجھ کو نہیں چاہتے ہیں

ہم زمیں کے ہیں کسی عرش معلیٰ کے نہیںاے خدا فیصلہ ہم لوگ یہیں چاہتے ہیں

وہ ہمیں اور جنوں اور جنوں چاہتا ہےہم اسے اور حسیں اور حسیں چاہتے ہیں

عشق ہوتا ہے گماں اس کو گماں ہونا تھاہے کمی اپنی کہ ہم اس کو یقیں چاہتے ہیں

— امیر امام