5 اشعار

شہر میں سارے چراغوں کی ضیا خاموش ہے

Sheher mein saare charaghon ki ziya khamosh hai

شہر میں سارے چراغوں کی ضیا خاموش ہےتیرگی ہر سمت پھیلا کر ہوا خاموش ہے

صبح کو پھر شور کے ہمراہ چلنا ہے اسےرات میں یوں دل دھڑکنے کی صدا خاموش ہے

کیسا سناٹا تھا جس میں لفظ کن کہنے کے بعدگنبد افلاک میں اب تک خدا خاموش ہے

کچھ بتاتا ہی نہیں گزری ہے کیا پردیس میںاپنے گھر کو لوٹتا ایک قافلہ خاموش ہے

اٹھ رہی ہے میری مٹی سے صدائے العطشخالی مشکیزہ لئے اپنا گھٹا خاموش ہے

— امیر امام