6 اشعار

چھوڑ کر آنکھیں جبینوں کی طرف چلنے لگے

Chhoṛ kar aankhen jabeenon ki taraf chalne lage

چھوڑ کر آنکھیں جبینوں کی طرف چلنے لگےخواب اشکوں سے پسینوں کی طرف چلنے لگے

جب نہیں لوٹے تو کچھ دن راہ دیکھی اور پھروہ مکاں اپنے مکینوں کی طرف چلنے لگے

دل کے تہہ خانے سے اک خواہش کو لے کر ساتھ ہماس بدن کی شہ نشینوں کی طرف چلنے لگے

اس کے در سے ہم چلے تو آسماں تک آ گئےاور پھر واپس زمینوں کی طرف چلنے لگے

حال بھی ماضی بھی مستقبل بھی دیتا تھا صداتنگ آ کر ہم بھی تینوں کی طرف چلنے لگے

جانتے ہو وہ ہماری آستیں کے سانپ تھےجو تمہاری آستینوں کی طرف چلنے لگے

— امیر امام