6 اشعار

سوچتا ہوں کہ ترا ہجر بہانہ کر لوں

Sochta hoon ki tera hijr bahana kar loon

سوچتا ہوں کہ ترا ہجر بہانہ کر لوںاور خالی اب ان آنکھوں کا خزانہ کر لوں

تیرے پردے کے لئے سنگ کیا ہے چہرہسوچ کیا ہو جو اسے آئنہ خانہ کر لوں

میں بلاتا ہوں اسے روز پرانا ہو کرموت کہتی ہے ابھی اور پرانا کر لوں

یوں اکیلا ہوں کہیں بھول نہ جاؤں تجھ کواسی تنہائی کو چاہوں تو زمانہ کر لوں

اور کچھ دیر کہ ہے تاب ابھی تک مجھ میںناتوانی کو ذرا اور توانا کر لوں

آسمانوں پہ بھی ڈالیں گی کمندیں آنکھیںپہلے ان چاند ستاروں کو نشانہ کر لوں

— امیر امام