5 اشعار

چھپ جاتا ہے پھر سورج جس وقت نکلتا ہے

Chhup jaata hai phir suraj jis waqt nikalta hai

چھپ جاتا ہے پھر سورج جس وقت نکلتا ہےکوئی ان آنکھوں میں ساری رات ٹہلتا ہے

چمپئی صبحیں پیلی دوپہریں سرمئی شامیںدن ڈھلنے سے پہلے کتنے رنگ بدلتا ہے

دن میں دھوپیں بن کر جانے کون سلگتا تھارات میں شبنم بن کر جانے کون پگھلتا ہے

خاموشی کے ناخن سے چھل جایا کرتے ہیںکوئی پھر ان زخموں پر آوازیں ملتا ہے

رات اگلتا رہتا ہے وہ ایک بڑا سایہچھوٹے چھوٹے سائے جو ہر شام نگلتا ہے

— امیر امام