8 اشعار

ہم بے وفا ہیں تم ہو وفادار خوش رہو

Hum bewafa hain tum ho wafadar khush raho

ہم بے وفا ہیں تم ہو وفادار خوش رہوسرکار خوش رہو مری سرکار خوش رہو

لے جاؤ اپنی زلف کے سائے سمیٹ کرہم کو بہت ہے سایۂ دیوار خوش رہو

ہونے پہ اپنے آپ کے اصرار کب کیاہونے سے خود ہمیں بھی ہے انکار خوش رہو

ہم تو فقط ہیں بھیڑ بڑھانے کے واسطےتم ہو بنائے رونق بازار خوش رہو

تم خوش رہو کہ اب کوئی خطرہ نہیں تمہیںہم ہو چکے ہیں خود میں گرفتار خوش رہو

تم عورتوں پہ ہم نے ہمیشہ ستم کئےہم مرد ہیں سدا کے جفا کار خوش رہو

بے وجہ غم کا ڈھونگ رچانے سے فائدہیوں بھی ہیں سب تمہارے پرستار خوش رہو

انساں بھی ہم خراب ہیں شاعر بھی ہیں خراببے کار یہ غزل ہے یہ اشعار خوش رہو

— امیر امام