6 اشعار

جو ڈوبا تھا وہی سورج ابھرنے کے لئے ہے

Jo ḍooba tha wahi suraj ubharne ke liye hai

جو ڈوبا تھا وہی سورج ابھرنے کے لئے ہےیہ دنیا ہر قدم حیران کرنے کے لئے ہے

اگر ہے شوق اڑنے کا تو جاؤ آسماں میںزمیں والو زمیں تو پاؤں دھرنے کے لئے ہے

حفاظت کرتے کرتے شاخ سے گر جائے ہر گلمگر خوشبو ہواؤں میں بکھرنے کے لئے ہے

یہ جو اک رنگ باقی ہے مری آنکھوں میں اب تکنہ جانے کون سے خوابوں میں بھرنے کے لئے ہے

مری تنہائی میں آؤ اور اپنے عکس دیکھویہ آئینہ تمہارے ہی سنورنے کے لئے ہے

کبھی منزل ہوا کرتا تھا روز اک راستے کیجو دل اب راستہ ہے اور گزرنے کے لئے ہے

— امیر امام