6 اشعار

خوشیوں سے مزاجاً کوئی یکجائی نہیں تھی

Khushiyon se mizajan koi yakjaai nahin thi

خوشیوں سے مزاجاً کوئی یکجائی نہیں تھیکچھ غم تھے مگر ان سے شناسائی نہیں تھی

پایا اسے ہم نے جسے کھویا ہی نہیں تھااور کھو گئی وہ شئے جو کبھی پائی نہیں تھی

ہے یاد بہت تیز چھناکا سا ہوا تھاپھر دیر تلک کوئی صدا آئی نہیں تھی

چہروں میں بھٹکتی ہوئی اس دل کی طبیعتبے چین تو کہہ سکتے ہو ہرجائی نہیں تھی

ہم نے تو قسم کھائی تھی بولیں گے نہ تم سےتم نے تو کوئی ایسی قسم کھائی نہیں تھی

بس دل تھا ہمارا کہ جہاں ڈوب سکے ہمدل جتنی ان آنکھوں میں بھی گہرائی نہیں تھی

— امیر امام