7 اشعار

وہ آسماں کی حدوں کا شعور ہو جانا

Woh aasman ki haddon ka shaoor ho jaana

وہ آسماں کی حدوں کا شعور ہو جانامگر یہ کیا کہ زمینوں سے دور ہو جانا

اس ایک اشک کا بہنا نشیب جاں کی طرفاور اندرون میں ہر سمت نور ہو جانا

وہ ڈھلنا ایک خلش کا جنون میں پہلےپھر اس جنون کا بڑھ کر سرور ہو جانا

جو تم کو دیکھ کے تلوار پھینک دوں اپنیتو میرے قتل میں شامل ضرور ہو جانا

اک ایسا عکس ابھرنا کہ جس کی حدت سےتمام شیشۂ دل چور چور ہو جانا

یہ مانتے ہی کہ ہے پار اس کا نا ممکنوہ بے کنار سمندر عبور ہو جانا

شراب دی تھی جو مجھ کو تمہاری فرقت نےوہی شراب شراب طہور ہو جانا

— امیر امام