5 اشعار

دوپہر میں بھی وہی شمع جلائے ہوئے دن

Dopahar mein bhi wohi shama jalaye hue din

دوپہر میں بھی وہی شمع جلائے ہوئے دناپنے کاندھوں پہ شب ہجر اٹھائے ہوئے دن

تم سے بچھڑے تھے تو دیوار کی مانند تھی راتاور پھر بس اسی مہتاب کے سائے ہوئے دن

ہوتا جاتا ہوں میں سورج کی تمازت کے قریبایک مہتاب کو سینے میں چھپائے ہوئے دن

میرے ماضی تری خوراک ہوا چاہتے ہیںدل کی گلک میں رکھے ہیں جو بچائے ہوئے دن

دھوپ ہے تیز پسینے میں شرابور ہیں ابوہ جو تھے چاندنی راتوں میں نہائے ہوئے دن

— امیر امام